سعودی عرب میں ڈرونز اور بیلسٹک میزائل حملوں کی کوشش، ریاض سمیت کئی علاقے نشانے پر

سعودی فوجی اتحاد کے مطابق ریاض اور مشرقی صوبے میں ڈرونز جبکہ خمیس مشیط کی جانب داغے گئے دو بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کردیے گئے؛ جدہ ایئرپورٹ بھی عارضی طور پر بند رہا۔

سعودی عرب میں ڈرونز اور بیلسٹک میزائل حملوں کی کوشش، ریاض سمیت کئی علاقے نشانے پر

ریاض: سعودی عرب میں ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے مختلف علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوششیں ناکام بنانے کی اطلاع دی گئی ہے۔ سعودی فوجی اتحاد کے مطابق دارالحکومت ریاض اور ملک کے مشرقی صوبے میں ڈرونز کو تباہ کردیا گیا، جبکہ خمیس مشیط کی جانب داغے گئے دو بیلسٹک میزائل بھی فضا میں تباہ کردیے گئے۔

فوجی اتحاد کی جانب سے جاری معلومات کے مطابق ڈرونز کی کارروائیاں سعودی دارالحکومت اور مشرقی صوبے میں رپورٹ ہوئیں۔ حکام نے بتایا کہ فضائی دفاعی کارروائی کے ذریعے ان ڈرونز کو تباہ کردیا گیا۔

اسی دوران سعودی عرب کے جنوب مغربی علاقے خمیس مشیط کی طرف دو بیلسٹک میزائل داغے گئے۔ فوجی اتحاد نے ان میزائلوں کو حوثیوں سے منسوب کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کردیے گئے۔

خمیس مشیط سعودی عرب کے عسیر ریجن کا ایک اہم شہر ہے۔ یمن کے تنازع کے دوران سعودی عرب کے جنوبی علاقوں کی سیکیورٹی خصوصی اہمیت اختیار کرتی رہی ہے، کیونکہ یہ علاقے یمن کی سرحد سے نسبتاً قریب واقع ہیں۔

تازہ واقعات کے ساتھ ہی سعودی عرب کے فضائی آپریشن میں بھی عارضی رکاوٹ کی اطلاع سامنے آئی۔ ایوی ایشن ذرائع کے مطابق جدہ ایئرپورٹ کو تقریباً 45 منٹ کی بندش کے بعد دوبارہ پروازوں کے لیے کھول دیا گیا۔

جدہ ایئرپورٹ کی بندش کی اطلاع ڈرونز اور میزائلوں سے متعلق خبروں کے ساتھ سامنے آئی ہے، تاہم دستیاب معلومات میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ایئرپورٹ کی عارضی بندش براہِ راست انہی کارروائیوں کے باعث ہوئی تھی یا اس کے پیچھے کوئی دوسرا حفاظتی یا انتظامی سبب تھا۔

سعودی فوجی اتحاد نے ڈرونز اور میزائلوں کو تباہ کرنے کی تصدیق کی ہے، لیکن ان واقعات میں کسی جانی نقصان، زمین پر ملبہ گرنے یا املاک کو نقصان پہنچنے کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

فوجی اتحاد کے مطابق خمیس مشیط کی طرف داغے گئے دونوں بیلسٹک میزائل حوثیوں کی جانب سے بھیجے گئے تھے۔ تاہم دستیاب رپورٹ میں حوثیوں کا تازہ مؤقف یا ان کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے متعلق کوئی بیان شامل نہیں ہے۔

ریاض، مشرقی صوبے اور خمیس مشیط سے متعلق اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب خطے میں جاری کشیدگی کے باعث سعودی عرب کی فضائی سلامتی اور اہم تنصیبات کے تحفظ پر توجہ مرکوز ہے۔

تازہ واقعات کے بعد فضائی دفاعی کارروائیوں کی مزید تفصیلات، ممکنہ نقصانات اور جدہ ایئرپورٹ کی عارضی بندش کی وجوہات کے بارے میں متعلقہ حکام کی اضافی وضاحت کا انتظار ہے۔

خبر شیئر کریں: