جنگ کا خطرہ بڑھ گیا، برطانوی شہریوں کو قربانیوں کیلئے تیار رہنا ہوگا، برطانوی آرمی چیف
برطانوی فوج کے سربراہ جنرل سر رولی واکر نے خبردار کیا ہے کہ دنیا میں بڑھتے خطرات کے باعث حکومت جلد عوام کو دفاعی تیاریوں اور ممکنہ مشکلات سے آگاہ کرے گی۔
لندن: برطانوی فوج کے سربراہ جنرل سر رولی واکر نے خبردار کیا ہے کہ دنیا میں جنگ کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور برطانیہ کے عوام کو بھی ملکی دفاع کے لیے قربانیاں دینے اور مشکل فیصلوں کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ ان کے مطابق ملک کی سیاسی قیادت جلد شہریوں کو موجودہ خطرات اور دفاعی تیاریوں کی ضرورت کے بارے میں کھل کر آگاہ کرے گی۔
برطانوی آرمی چیف نے یہ بات شمالی انگلینڈ کے علاقے نارتھ یارکشائر میں کیٹرک گیریژن کے دورے کے دوران کہی، جہاں انہوں نے تقریباً 700 فوجیوں سے خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی حالات تیزی سے بدل رہے ہیں اور اب برطانیہ کے لیے کسی بڑی جنگ کے امکان کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں رہا۔
جنرل رولی واکر نے فوجیوں سے کہا کہ ایک وقت تھا جب برطانوی عوام یہ سوچنا بھی نہیں چاہتے تھے کہ ان کی فوج کو کسی جنگ میں حصہ لینا پڑ سکتا ہے، لیکن اب حالات مختلف ہیں اور ملک کو ایک بار پھر اپنے فوجیوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت جلد عوام کے سامنے یہ واضح کرے گی کہ دنیا میں کیا ہورہا ہے، برطانیہ کو کن خطرات کا سامنا ہے اور ان سے نمٹنے کے لیے ملک کو کس قسم کی تیاری کرنا ہوگی۔
برطانوی فوج کے سربراہ کے مطابق دفاع اور قومی سلامتی کو زیادہ اہمیت دینے کے لیے شہریوں کو بعض قربانیاں قبول کرنا پڑ سکتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ملکی دفاع صرف فوج کی ذمہ داری نہیں بلکہ عام شہریوں کا تعاون اور حمایت بھی ضروری ہے۔
جنرل واکر نے کہا کہ عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ فوج ان کے تحفظ کے لیے کیا کردار ادا کرتی ہے اور اسے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے کس قسم کے وسائل اور حمایت درکار ہوتی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو شہریوں کے ساتھ واضح بات چیت کرنا ہوگی تاکہ وہ دفاعی ضروریات اور ان کے لیے کیے جانے والے فیصلوں کو سمجھ سکیں۔
انہوں نے فوجیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر برطانیہ کو جنگ کا سامنا کرنا پڑا تو ملک کے دفاع کی بنیادی ذمہ داری انہی کے کندھوں پر ہوگی۔ خاص طور پر زمینی جنگ میں کم تجربہ رکھنے والے نوجوان فوجیوں کو بھی انتہائی مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
برطانوی آرمی چیف کے ان بیانات کو یورپ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے تناظر میں اہم سمجھا جارہا ہے۔ برطانوی دفاعی حکام پہلے بھی خبردار کرچکے ہیں کہ عالمی سطح پر بڑھتے فوجی خطرات کے باعث ملک کو اپنی دفاعی صلاحیت بہتر بنانا ہوگی۔
برطانوی حکومت گزشتہ کچھ عرصے سے فوجی تیاریوں، جدید ہتھیاروں اور دفاعی نظام پر زیادہ سرمایہ خرچ کرنے کے منصوبوں پر کام کررہی ہے۔ اس سلسلے میں ڈرونز، فضائی دفاع، جنگی طیاروں اور دیگر جدید فوجی ٹیکنالوجی کو خصوصی اہمیت دی جارہی ہے۔
جون 2026 میں برطانوی حکومت نے مسلح افواج کو جدید بنانے کے لیے مزید 15 ارب پاؤنڈ کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا۔ حکومتی منصوبے کے مطابق آئندہ چار برسوں میں دفاعی شعبے پر مجموعی طور پر تقریباً 298 ارب پاؤنڈ خرچ کیے جائیں گے۔
دفاعی اخراجات میں اضافے کے ساتھ یہ بحث بھی جاری ہے کہ اضافی رقم کہاں سے آئے گی اور اس کے لیے دوسرے سرکاری شعبوں کے بجٹ میں کس حد تک تبدیلی کرنا پڑے گی۔ فوجی سربراہ کے تازہ بیان میں شہریوں سے قربانیوں کی بات اسی وسیع بحث کا حصہ ہے۔
برطانیہ میں عوامی رائے کے حالیہ جائزوں سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ دفاعی تیاریوں کے معاملے پر شہریوں کی سوچ یکساں نہیں۔ ایک سروے کے مطابق تقریباً نصف برطانوی شہری کسی بھی صورت جنگ میں حصہ لینے کے لیے تیار نہیں، تاہم نصف سے زیادہ افراد دفاعی اخراجات بڑھانے کی حمایت کرتے ہیں۔
دفاعی اخراجات میں اضافے کے حامی شہریوں میں بھی اس بات پر اختلاف پایا جاتا ہے کہ رقم ٹیکسوں میں اضافے سے حاصل کی جائے یا دوسرے سرکاری شعبوں کے بجٹ سے نکالی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کے لیے فوجی ضروریات کے ساتھ عوامی ترجیحات میں توازن قائم کرنا ایک اہم مسئلہ بن گیا ہے۔
دوسری جانب برطانوی حکومت شہریوں کو مختلف ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے بہتر طور پر تیار کرنے کے منصوبوں پر بھی غور کررہی ہے۔ ان میں قدرتی آفات، بجلی اور بنیادی سہولیات کی بندش اور ممکنہ مسلح تنازع جیسے حالات شامل ہیں۔
تاہم برطانوی آرمی چیف کے بیان کا یہ مطلب نہیں کہ حکومت نے فوری جنگ، شہریوں کی لازمی فوجی بھرتی یا عام لوگوں کو محاذ پر بھیجنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ فی الحال ان کے بیان کا بنیادی مقصد دفاعی تیاریوں کی اہمیت اور ممکنہ مالی و سماجی مشکلات کے بارے میں عوام کو آگاہ کرنا ہے۔
جنرل رولی واکر نے واضح کیا کہ موجودہ عالمی صورتحال میں دفاعی معاملات کو صرف فوج تک محدود نہیں رکھا جاسکتا۔ ان کے مطابق اگر مستقبل میں ملک کو کسی بڑے خطرے کا سامنا کرنا پڑا تو فوج کے ساتھ عوام کی حمایت بھی فیصلہ کن اہمیت رکھے گی۔





