مشرقِ وسطیٰ کی جنگ سے معاشی بحران کا خدشہ، آئی ایم ایف کا انتباہ
آئی ایم ایف کے علاقائی ڈائریکٹر جہاد آزور نے جنگ طویل ہونے کی صورت میں بڑھتے معاشی خطرات سے خبردار کردیا
واشنگٹن: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے طویل ہونے سے خطے کی معیشتوں کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں، خصوصاً توانائی کی پیداوار، بندرگاہوں اور بین الاقوامی تجارتی راستوں میں مزید رکاوٹیں معاشی صورتحال کو پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔
آئی ایم ایف کے مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے شعبے کے ڈائریکٹر جہاد آزور کے مطابق خطے کے متعدد ممالک نے اب تک اپنے مالی ذخائر اور متبادل تجارتی راستوں کی مدد سے جنگ کے معاشی اثرات کو کسی حد تک محدود رکھا ہے، تاہم یہ سہولتیں طویل عرصے تک دباؤ برداشت نہیں کرسکتیں۔
امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں اور اس کے بعد آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے عالمی سطح پر تیل، گیس اور مال برداری کے نظام کو متاثر کیا ہے۔ اس صورتحال کے باعث توانائی درآمد کرنے والے ممالک کو قیمتوں میں اضافے اور رسد میں مشکلات کا سامنا ہے۔
دوسری جانب تیل اور گیس برآمد کرنے والے ممالک بھی متاثر ہوئے ہیں، جہاں پیداوار اور برآمدات میں رکاوٹوں کے باعث حکومتی آمدن پر دباؤ بڑھا ہے۔
آئی ایم ایف کے تخمینے کے مطابق مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ اور پاکستان پر مشتمل وسیع علاقائی گروپ کی معیشت 2026 کے دوران 1.3 فیصد سکڑ سکتی ہے، جبکہ 2025 میں اسی گروپ کی شرحِ نمو 3.3 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔
مالیاتی ادارے نے 2027 میں علاقائی معیشت کی شرحِ نمو 6.6 فیصد تک پہنچنے کا امکان بھی ظاہر کیا ہے، تاہم یہ پیش گوئی جنگی صورتحال میں بہتری، توانائی کی ترسیل کی بحالی اور تجارتی سرگرمیوں کے معمول پر آنے سے مشروط ہے۔
جہاد آزور نے کہا کہ موجودہ حالات میں ممالک کے لیے مالی نظم و ضبط برقرار رکھنا، حکومتی ذخائر دوبارہ مضبوط بنانا اور مستقبل کے معاشی جھٹکوں سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ضروری ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق جنگ کا دورانیہ اور توانائی و تجارت کی بحالی کی رفتار خطے کے معاشی مستقبل پر اثرانداز ہونے والے اہم عوامل ہوں گے۔ واضح رہے کہ ادارے کی جانب سے جاری کردہ شرحِ نمو کے تخمینے پورے علاقائی گروپ سے متعلق ہیں، پاکستان یا کسی دوسرے ملک کی انفرادی معاشی پیش گوئی نہیں۔





