آبنائے ہرمز میں حملوں کے بعد 2 تجارتی جہاز ڈوب گئے
سنگاپور کے جہاز کا تمام عملہ محفوظ، دوسرے جہاز پر حملے میں ایک شخص ہلاک ہوا تھا
آبنائے ہرمز: اہم بین الاقوامی بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز میں حملوں کا نشانہ بننے والے دو تجارتی جہاز ڈوب گئے ہیں، جس کے بعد خطے میں تجارتی جہاز رانی کی سلامتی سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
بحری سلامتی سے متعلق حکام کے مطابق ڈوبنے والے جہازوں میں ایک کنٹینر بردار جہاز اور دوسرا خشک سامان کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والا مال بردار جہاز شامل ہے۔ دونوں کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا تھا۔
سنگاپور کے پرچم بردار کنٹینر جہاز جی ایف ایس پرائیڈ کو آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے دھماکے کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں جہاز میں آگ بھڑک اٹھی اور بعدازاں وہ سمندر میں ڈوب گیا۔
سنگاپور کی میری ٹائم اینڈ پورٹ اتھارٹی کے مطابق جہاز پر موجود تمام 21 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا اور اس واقعے میں عملے کے کسی رکن کی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔
دوسرا مال بردار جہاز کیپ ڈاؤ تھا، جو اینٹیگوا اینڈ باربوڈا کے پرچم تلے سفر کررہا تھا۔ اس جہاز کو 23 ستمبر کو حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد اسے خالی کرا لیا گیا تھا۔ اب حکام نے اس کے ڈوبنے کی بھی تصدیق کردی ہے۔
بین الاقوامی سمندری تنظیم کے مطابق کیپ ڈاؤ پر ہونے والے ابتدائی حملے میں عملے کا ایک رکن ہلاک ہوا تھا۔ تاہم دونوں جہازوں پر حملوں کی ذمہ داری اور ان کے مکمل حالات سے متعلق آزادانہ تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی۔
آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ جنگ سے قبل دنیا میں تجارت ہونے والے تیل اور مائع قدرتی گیس کا تقریباً پانچواں حصہ اسی گزرگاہ سے منتقل کیا جاتا تھا۔
بحری راستے پر بڑھتے ہوئے خطرات سے صرف تیل اور گیس کی ترسیل ہی نہیں بلکہ دیگر تجارتی سامان کی نقل و حمل، جہازوں کی انشورنس اور بین الاقوامی شپنگ سرگرمیاں بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔





