مغربی کنارے میں صحافی اور سفارت کاروں پر حملے، گرفتار 10 میں سے 9 مشتبہ افراد رہا
اسرائیلی عدالت نے بیشتر مشتبہ افراد کو گھر میں نظر بند کرنے کا حکم دیا، ایک شخص کی حراست برقرار، حملوں کی تحقیقات جاری۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں امریکی خاتون فوٹو جرنلسٹ اور یورپی سفارتی وفد پر حملوں کے سلسلے میں گرفتار 10 مشتبہ افراد میں سے 9 کو حراست سے رہا کردیا گیا ہے، جبکہ ایک شخص بدستور زیر حراست ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی آبادکاروں کے مقدمات کی پیروی کرنے والی قانونی تنظیم ہونینو نے بتایا کہ بیشتر مشتبہ افراد کو گھر میں نظر بند کرنے کی شرائط پر رہا کیا گیا ہے۔ اسرائیلی پولیس نے پیر 19 اکتوبر کو ان واقعات کی تحقیقات کے دوران 10 افراد کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا۔
ان حملوں میں امریکی فوٹو جرنلسٹ ہیڈی لیوائن بھی زخمی ہوئی تھیں، جو مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی زیتون کی فصل کی کٹائی کی کوریج کر رہی تھیں۔ جمعہ 16 اکتوبر کو ہونے والے حملے کے بعد انہیں ریڑھ کی ہڈی میں چوٹوں کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
اس سے قبل اے ایف پی کے فوٹوگرافر جعفر اشتیہ بھی مغربی کنارے میں زیتون کی فصل کی کوریج کے دوران اسرائیلی آبادکاروں کے حملے میں زخمی ہوئے تھے اور انہیں طبی امداد کی ضرورت پڑی تھی۔
ہفتہ 17 اکتوبر کو ایک الگ واقعے میں یورپی سفارتی وفد پر حملہ کیا گیا۔ اس دوران فرانس کے شہر اولنوائے ایمری کے 78 سالہ میئر برنار بودو کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
ان واقعات پر امریکا اور متعدد یورپی ممالک نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
مشتبہ افراد کے وکیل اساف گونین نے گرفتاریوں کو میڈیا اور بیرونی دباؤ کا نتیجہ قرار دیا۔ دوسری جانب اسرائیلی پولیس کا مؤقف ہے کہ تحقیقات شواہد کی بنیاد پر جاری ہیں۔
عدالتی کارروائی کے مطابق ایک مشتبہ شخص کی حراست میں 26 اکتوبر تک توسیع کی گئی ہے۔ دیگر افراد کی رہائی کو مقدمات کے خاتمے یا الزامات سے بریت کا فیصلہ قرار نہیں دیا گیا۔